بین الاقوامی
Trending

روسی فوج میں شامل بھارتی شہری نے یوکرینی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے

 

کیو: یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک 22 سالہ بھارتی شہری، جس نے روسی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی، نے صرف تین دن فرنٹ لائن پر لڑنے کے بعد یوکرینی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

یوکرین کی 63ویں میکانائزڈ بریگیڈ نے اپنے آفیشل ٹیلیگرام چینل پر ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ بھارتی شہری کو یوکرینی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔ ویڈیو میں اس کی شناخت ماجوتی ساحل محمد حسین کے طور پر کی گئی ہے، جو بھارت کی ریاست گجرات کے ضلع موربی کا رہائشی ہے۔

مذکورہ ویڈیو میں حسین کا کہنا ہے کہ وہ تعلیم کے لیے روس گیا تھا، تاہم وہاں اسے منشیات کے ایک مقدمے میں گرفتار کر کے سات سال قید کی سزا دی گئی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ روسی حکام نے اسے جیل کی سزا کے بجائے فوج میں بھرتی ہونے کا آپشن دیا، جسے اس نے قبول کر لیا۔

اس کے مطابق، اسے صرف 16 دن کی بنیادی فوجی تربیت دی گئی، جس کے بعد یکم اکتوبر کو پہلی بار یوکرین کے فرنٹ لائن پر تعینات کر دیا گیا۔ تین دن کے اندر، ایک جھگڑے کے بعد، اس نے روسی کمانڈر کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے خود کو یوکرینی فوج کے حوالے کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے خود چل کر یوکرینی خندقوں تک رسائی حاصل کی اور اپنے ہتھیار زمین پر رکھ دیے، اس امید پر کہ اسے پناہ ملے گی۔اس  نے ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ اسے وہ رقم بھی ادا نہیں کی گئی جو روسی حکام نے وعدہ کی تھی، اور وہ اب روس واپس نہیں جانا چاہتا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین میں قید رہنا بہتر سمجھے گا، بنسبت دوبارہ روس جانے کے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق، کیو میں بھارتی سفارت خانہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، تاہم اب تک یوکرینی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button