واشنگٹن : وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے لیے سعودی عرب کی جانب سے غیر معمولی مالی معاونت کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے مجموعی طور پر 8 ارب ڈالر کا ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ سعودی تعاون کے دو اہم ترین پہلو ملکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گے۔ سعودی عرب مزید 3 ارب ڈالر کے نئے ڈپازٹس فراہم کر رہا ہے، جو آئندہ ہفتے پاکستان کو موصول ہو جائیں گے۔پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کے سعودی ڈپازٹس، جو ہر سال رول اوور (مدت میں توسیع) کیے جاتے تھے، اب طویل مدت کے لیے بڑھا دیے گئے ہیں۔ اس اقدام سے پاکستان پر سے فوری بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ ختم ہو گیا ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ اس معاونت کے بعد ملکی ذخائر کو 18 ارب ڈالر تک پہنچانا ہدف ہے، جو تین ماہ سے زائد کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں 1.4 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کامیابی سے مکمل کی ہے، جس نے عالمی سرمایہ کاروں کو مثبت پیغام دیا ہے۔
حکومت فنڈنگ کے ذرائع کو وسعت دینے کے لیے اب چینی مارکیٹ میں "پانڈا بانڈ” متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔وزیرِ خزانہ نے اس بڑی کامیابی کا سہرا وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور سعودی قیادت بالخصوص ولی عہد محمد بن سلمان کے سر باندھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) اور ورلڈ بینک کے ساتھ مذاکرات انتہائی مثبت سمت میں جا رہے ہیں اور عالمی برادری پاکستان کی معاشی اصلاحات کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔




