راولپنڈی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود انہیں بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جو ملکی سیاسی صورتحال پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کس سمت جا رہا ہے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ جب سے وہ وزیراعلیٰ بنے ہیں، ان پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص خیبرپختونخوا آیا اور کہا کہ وہ وزیراعلیٰ نہیں بن پائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ انہوں نے ملاقات کے لیے وفاقی اور پنجاب حکومت کو خطوط بھیجے مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ عدالتوں میں بھی درخواستیں دی گئیں لیکن کوئی اثر نہیں ہوا، اب وہ عوامی عدالت کا سہارا لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا فرض عوام کی خدمت کرنا ہے اور جلسے جلوس پارٹی کے کام ہیں جن پر پارٹی کی ہدایات کے مطابق عمل کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کابینہ کی تشکیل کے لیے بانی پی ٹی آئی کی اجازت ضروری ہے اور ان کا لائحہ عمل بانی کے مطابق ہے۔
وزیراعلیٰ نے افغان مہاجرین کو عزت و احترام کے ساتھ وطن واپس بھیجنے کی بات بھی کی۔




