کراچی : گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے صوبائی حکومت کی انتظامی کارکردگی کو مسترد کرتے ہوئے اسے شہرِ قائد کے ساتھ زیادتی قرار دے دیا ہے۔ اپنے تازہ بیان میں انہوں نے سندھ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کراچی کو صرف ریونیو مشین سمجھ لیا گیا ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی میں سانحات کے بعد لواحقین کو معاوضے کی رقم دے کر ان کا منہ بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جبکہ اصل ضرورت حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ انتظامیہ کے پاس لوگوں کو بچانے کے لیے ضروری وسائل ہی موجود نہیں، جس کی وجہ سے معمولی حادثات بھی بڑے سانحے بن جاتے ہیں۔ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ شہر سے جمع ہونے والے ٹیکس کا محض 5 فیصد بھی یہاں خرچ نہیں ہوتا۔ انہوں نے اسے "ٹیکس گردی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں سے صرف کمایا جا رہا ہے مگر بدلے میں شہر کو کچھ نہیں دیا جا رہا۔
گورنر نے واضح کیا کہ اگر وہ سانحات پر آواز بلند نہ کرتے تو لواحقین کی داد رسی بھی ممکن نہ ہوتی۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کے سدِباب کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں؟۔




