کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پٹرول پر 100 روپے سے زائد لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی اس سے متاثر ہو رہا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کے براہِ راست اثرات روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسان کو ڈیزل مہنگا ملنے سے لاگتِ پیداوار بڑھے گی، جبکہ زرعی اجناس اور سبزیوں کی نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کا بوجھ بھی عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔ مہنگائی کے طوفان میں تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی پس کر رہ گیا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ وفاقی حکومت موجودہ حالات میں عوام پر مزید مہنگائی کا بوجھ نہ ڈالے۔ وفاق کی جانب سے پٹرول پر 100 روپے سے زائد لیوی وصول کرنا ایک بڑا المیہ ہے، حکومت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے فوری طور پر لیوی ختم کرنی چاہیے۔
سینئر وزیر نے کہا کہ خلیج کی موجودہ صورتحال اور عالمی حالات پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی وجوہات ہیں، تاہم حکومت کو عوامی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ریلیف کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ وزیراعظم کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں کے لیے ریلیف کا اعلان خوش آئند ہے، لیکن مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2008 میں ایم کیو ایم ہماری اتحادی تھی اور اس وقت ایک روپیہ قیمت بڑھنے پر حکومت چھوڑ دی گئی تھی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر ڈالنا بند کرے اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرکے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔




