اسلام آباد: ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے میں مبینہ فراڈ اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آگئی، وفاقی حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ منظور کرلی، جبکہ معاملے میں نیب قوانین کے تحت کارروائی کی سفارش کردی گئی۔
وفاقی وزرا احسن اقبال، عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت طلال چودھری نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں سی ڈی اے کے بعض افسران کی جانب سے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد نہ کرنے اور انتظامی کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
احسن اقبال کے مطابق رپورٹ میں عبدالحفیظ شیخ اور سی ڈی اے کے بعض افسران کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ کمپنی کو بلیک لسٹ بھی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور تجاوزات کے خلاف کارروائی بلاامتیاز جاری رہے گی۔
طلال چودھری نے بتایا کہ منصوبہ گزشتہ 20 برس سے زیرِ التوا رہا، تحقیقات کے دوران سات سے آٹھ افراد پیش نہیں ہوئے جن میں بانی پی ٹی آئی بھی شامل ہیں۔
وفاقی وزرا نے واضح کیا کہ سرکاری اداروں میں شفافیت، قانون کی بالادستی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔




