واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر "امریکہ فرسٹ” پالیسی پر زور دیتے ہوئے طبی تحقیق اور ادویات کی قیمتوں میں کمی کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا لہجہ روایتی طور پر پر اعتماد اور مخالفین کے لیے سخت رہا۔
صدر ٹرمپ نے ادویات کی قیمتوں میں 50 سے 80 فیصد تک کمی کو اپنی بڑی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہ سنگ میل عبور کر لیا ہے جو گزشتہ 28 سالوں سے ادھورا تھا۔ انہوں نے کہا میں اپنی کارکردگی پر فخر کرتا ہوں۔ میں نے یہ سب کر دکھایا لیکن میڈیا اس پر خاموش ہے، مگر کوئی بات نہیں، امریکی عوام سب دیکھ رہی ہے اور وہ سچ جانتے ہیں۔
صدر نے واضح کیا کہ نئے حکم نامے کے بعد ایف ڈی اے کے منظور شدہ ادویات کے طریقہ کار میں اصلاحات لائی جائیں گی تاکہ علاج تک رسائی آسان ہو۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملک میں منشیات کی اسمگلنگ میں آنے والی کمی کو بھی اپنی انتظامیہ کا بڑا کارنامہ قرار دیا۔
دورانِ گفتگو صدر ٹرمپ نے عالمی سیاست پر بھی بات کی اور اسپین کی معاشی صورتحال کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اسپین کی مالی حالت تشویشناک ہے کیونکہ وہ نیٹو اور اپنے دفاعی بجٹ میں مطلوبہ حصہ نہیں ڈال رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپین کی موجودہ حالت دیکھ کر انہیں افسوس ہوتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی اس تقریر اور ان کے حالیہ "دھمکی آمیز ٹوئٹس” نے بین الاقوامی سطح پر نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ برازیل کے صدر نے ٹرمپ کے اس رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی تعلقات کے منافی قرار دیا ہے۔




