بیجنگ:چینی صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ سطحی وفد کے اعزاز میں ایک پُروقار اور عالیشان ‘اسٹیٹ ڈنر’ کا اہتمام کیا۔ اس ضیافت میں دونوں ممالک کے سیاسی قائدین کے ساتھ ساتھ عالمی شہرت یافتہ کاروباری شخصیات نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی، جو واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کی علامت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے صدر ٹرمپ کے دورے کو انتہائی خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات محض سیاسی نہیں بلکہ ان کی جڑیں دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں پیوست ہیں۔ صدر ٹرمپ کی آمد نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک مذاکرات کو ایک نئی اور مثبت سمت عطا کی ہے۔
چینی صدر نے اپنے خطاب میں مستقبل کے لیے ایک واضح روڈ میپ پیش کرتے ہوئے کہا "اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مخالفت اور تصادم کے پرانے راستے ترک کر دیں۔ چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کی کامیابی کے لیے کام کرنا چاہیے، کیونکہ ہماری شراکت داری ہی عالمی امن اور معاشی استحکام کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔”
صدر شی نے تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ عالمی مسائل اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں طاقتیں حریف بننے کے بجائے ایک دوسرے کے معاشی اور سیاسی شراکت دار کے طور پر ابھریں۔
اسٹیٹ ڈنر میں دونوں ممالک کے ٹاپ بزنس ایگزیکٹوز کی موجودگی نے اس پیغام کو مزید تقویت دی کہ عالمی معیشت کا پہیہ دونوں ممالک کے باہمی تعاون سے ہی رواں رہ سکتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے خوشگوار ماحول میں ایک دوسرے کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
0 13 1 minute read




