اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے بیل آؤٹ پروگرام کا دائرہ کار مزید سخت کرتے ہوئے 11 نئی کڑی شرائط کا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پاکستان کے لیے مانیٹرنگ کے مجموعی اہداف کی تعداد بڑھ کر 55 ہو گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی تازہ ترین دستاویز کے مطابق، پاکستان کو قلیل مدتی معاشی استحکام کا سرٹیفکیٹ تو مل گیا ہے، لیکن طویل مدتی سٹرکچرل اصلاحات کے لیے بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے سمیت قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، آئی ایم ایف نے توانائی کے شعبے کے نقصانات اور گردشی قرضے کو قابو کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان کو درج ذیل ٹائم لائن کا پابند کیا ہے۔ جولائی 2026 اور فروری 2027: دو مراحل میں گیس ٹیرف میں بڑا ردوبدل (اضافہ) نافذ کیا جائے گا۔ جنوری 2027، بجلی کے بنیادی نرخوں میں نئی ایڈجسٹمنٹ کے تحت قیمتیں بڑھائی جائیں گی۔




