لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور عوام دوست بنانے کے لیے ایک جامع ری فامز ایجنڈا جاری کر دیا ہے۔ حکومت نے پولیس کو روایتی ڈھانچے سے نکال کر ڈیجیٹل نگرانی میں لانے کے لیے 3 ماہ کا وقت مقرر کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے 14 ہزار باڈی کیمز کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ہر اہلکار کی ڈیوٹی کے دوران کی جانے والی گفتگو اور کارروائی براہِ راست ریکارڈ ہوگی۔ تھانوں کے باہر جدید پینک بٹن لگائے جا رہے ہیں، تاکہ شہری کسی بھی ایمرجنسی یا زیادتی کی صورت میں فوری طور پر اعلیٰ حکام کو الرٹ کر سکیں۔
پنجاب میں پہلی بار ایف آئی آر کے لیے آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے تفتیشی عمل میں شفافیت آئے گی اور سائلین کو تھانوں کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے۔اب انویسٹی گیشن کے دوران ہونے والی ہر بات چیت کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ لازمی ہوگی، جس کا مقصد تشدد اور زبردستی کے اعترافِ جرم کو روکنا ہے۔
وزیراعلیٰ نے پولیس کے لہجے میں تبدیلی لانے کے لیے خصوصی ہدایات دی ہیں، جس کے تحت اب ہر اہلکار شہری کو "سر” کہہ کر پکارنے کا پابند ہے۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ پولیس کا وقار عوام کو عزت دینے میں ہی پنہاں ہے۔تمام ضلعی پولیس افسران (DPOs) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 90 دن کے اندر ان تمام اصلاحات کو زمین پر نافذ کریں، بصورتِ دیگر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




