اسلام آباد: پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوششوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ یونیسکو نے پاکستان کے مزید 12 تاریخی و ثقافتی مقامات کو عالمی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل کرلیا، جس کے بعد پاکستان کی ٹینٹیٹو لسٹ میں شامل مقامات کی تعداد 37 ہوگئی ہے۔
نئی فہرست میں خیبرپختونخوا سے گور کٹھڑی آثارِ قدیمہ کمپلیکس، بازیرا باریکوٹ، بھامالا بدھ مت کمپلیکس، سیٹھی ہاؤس، مائی قمر مسجد اور وادی کیلاش کا ثقافتی منظرنامہ شامل ہیں۔ پنجاب سے پھروالہ قلعہ، روات قلعہ اور سلطان مقرب خان کا مقبرہ، جبکہ سندھ سے کوٹ ڈیجی، ناؤکوٹ اور عمرکوٹ کے قلعے فہرست کا حصہ بنائے گئے ہیں۔
یونیسکو کی عارضی فہرست میں شمولیت کا مطلب فوری طور پر عالمی ورثے کا درجہ ملنا نہیں، بلکہ یہ مستقبل میں باقاعدہ نامزدگی کے لیے ابتدائی مرحلہ ہے۔ یونیسکو کے مطابق کسی مقام کو عالمی ورثے کی حتمی فہرست میں شامل کرنے سے پہلے اسے متعلقہ ملک کی ٹینٹیٹو لسٹ میں شامل ہونا ضروری ہے۔
پاکستان کی نئی شمولیت میں گندھارا اور بدھ مت کے آثار، قدیم آبادیوں، تاریخی قلعوں، اسلامی فنِ تعمیر اور وادی کیلاش کی زندہ ثقافتی روایات سمیت ملک کے متنوع ورثے کی نمائندگی ہوتی ہے۔ حکومت کے مطابق اس پیش رفت سے مستقبل میں سیاحت، ثقافتی سفارت کاری اور تاریخی مقامات کے تحفظ کے امکانات مزید بڑھیں گے۔




