نیویارک/لندن: بھارت میں ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے غلبے اور اقلیتوں کے خلاف جاری منظم کارروائیوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو چونکا دیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت جو کبھی اپنی "تنوع میں وحدت” کے لیے جانا جاتا تھا، اب ایک ایسی راہ پر چل پڑا ہے جو نہ صرف اس کے اپنے اندرونی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ایک تزویراتی خطرہ (Strategic Threat) بن چکی ہے۔
مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی اب محض کاغذوں تک محدود رہ گئی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بارہا مودی سرکار کو متنبہ کیا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی انتہا پسندی بھارت کے عالمی وقار کو خاک میں ملا رہی ہے۔
اگرچہ معاشی مفادات کی بنا پر کئی ممالک خاموش ہیں، تاہم یورپی یونین اور امریکی تھنک ٹینکس میں بھارت کے اندرونی حالات پر بحث تیز ہو چکی ہے کہ کیا ایک "ہندو راشٹرا” عالمی جمہوری اتحاد کا قابلِ بھروسہ ساتھی ہو سکتا ہے؟۔ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق، بھارت میں اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی پالیسی کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں: جب کسی بڑی آبادی کو جمہوری راستوں سے محروم کیا جاتا ہے، تو اس سے پورے خطے میں انتہا پسندانہ رجحانات کو ہوا ملتی ہے۔ہندوتوا کا "اکھنڈ بھارت” کا نظریہ نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کے لیے خودمختاری کا مسئلہ بن رہا ہے، جس سے علاقائی تنازعات میں شدت آنے کا خدشہ ہے۔ "بھارت میں سیکولر ازم کا خاتمہ صرف ایک ملک کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسے ایٹمی قوت کے حامل ملک کا بحران ہے جو اپنی مذہبی جنونیت کی وجہ سے پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتا ہے۔”




