پاکستان

 پنجاب میں سموگ کی صورتحال سنگین، لاہور سمیت دیگر شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

لاہور: پنجاب میں سموگ کی شدت میں اضافہ، لاہور سمیت مختلف شہروں میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) آج 462 تک پہنچ گیا، جس سے شہر دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں شامل ہو گیا ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس کی سطح اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جیسے ساندہ روڈ پر AQI 941، کینٹ میں 690، اقبال ٹاؤن میں 639 اور برکی روڈ پر 616 ریکارڈ کیا گیا۔

ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور پشاور جیسے دیگر شہروں میں بھی فضائی آلودگی کی سطح تشویش ناک ہے۔ ملتان میں AQI 507، فیصل آباد میں 712، گوجرانوالہ میں 287 اور پشاور میں 219 کی سطح پر فضائی آلودگی دیکھی گئی۔

ماہرین صحت نے شہریوں کو سموگ کے اثرات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ سموگ کی موجودگی سانس کی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے اور باہر نکلتے وقت ماسک استعمال کرنے کی سخت تجویز کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، پانی کا زیادہ استعمال کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے تاکہ جسم میں موجود زہریلے مادے کم کیے جا سکیں۔

اس سنگین صورتحال کے پیش نظر، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے شہر میں سموگ کے خلاف آپریشن شروع کر دیا ہے۔ کمپنی کے 16 مکینیکل واشرز اور 50 واشر رکشے سڑکوں کی صفائی اور پانی چھڑکنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دن اور رات کی شفٹوں میں 300 کلومیٹر سے زائد شاہراہوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔

ای پی اے کی  طرف سے لاہور کی 47 اہم شاہراہوں پر روزانہ دو بار پانی چھڑکنے کا عمل جاری ہے، جس میں جیل روڈ، مین بلیوارڈ گلبرگ، نور جہاں روڈ، ایم ایم عالم روڈ، جی ٹی روڈ، راوی روڈ اور رائیونڈ روڈ جیسے علاقے شامل ہیں۔

حالات کی سنگینی کے پیش نظر، حکام نے فضائی آلودگی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ اقدامات وقتی طور پر مفید ہو سکتے ہیں، لیکن فضائی آلودگی کے مستقل حل کے لیے حکومت اور شہریوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، جیسے فصلوں کی باقیات کو جلا کر فضائی آلودگی کو بڑھانے کی بجائے، ان کو مناسب طریقے سے تلف کرنا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button