وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ کے ہمراہ امریکی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان پر منشیات کے کاروبار، دہشت گردی میں ملوث ہونے اور خطرناک ہتھیار رکھنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی۔ صدر مادورو نے عدالت میں تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اغوا کر کے امریکہ لایا گیا ہے اور وہ بدستور وینزویلا کے صدر ہیں۔
عدالتی سماعت کے موقع پر صدر مادورو کو ہتھکڑیاں لگا کر بلٹ پروف گاڑی میں عدالت لایا گیا۔ پیشی کے دوران عدالت کے باہر امریکی شہریوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔
عدالت نے صدر مادورو کو 17 مارچ کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں سماعت کے بعد دوبارہ بروکلین جیل منتقل کر دیا۔ مقدمے کی آئندہ کارروائی پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔




