کوئٹہ: بلوچستان میں گرفتار ہونے والی مبینہ خودکش بمبار خاتون نے اپنے اعترافی بیان میں دہشت گردوں کے انسانیت سوز چہرے سے نقاب الٹ دیا ہے۔ خاتون نے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح اسے اس کے اپنے ہی کزن نے خاندان کے قتل کی دھمکی دے کر بارود بننے پر مجبور کیا۔
خاتون نے بتایا کہ اس کے کزن نے اسے ڈرا دھمکا کر کالعدم بی ایل اے (BLA) کے لیے کام کرنے پر لگایا۔ اسے دو مرتبہ آنکھیں بند کر کے نامعلوم پہاڑی مقامات پر لے جایا گیا جہاں اسے جبری طور پر شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی گئی۔
گرفتار خاتون کے مطابق، اسے خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کے لیے سب سے خوفناک حربہ استعمال کیا گیا۔ اسے دھمکی دی گئی کہ "اگر خودکش حملہ نہ کیا تو تمہارے والد کو گولی مار کر قتل کر دیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ خاتون کے منگیتر اور گھر والوں نے اسے اس خطرناک راستے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن کزن کی جانب سے ملنے والی سنگین نتائج کی دھمکیوں نے اسے بے بس کر دیا تھا۔ خاتون نے اپنے اصل جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "میں بالکل بھی یہ سب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں پڑھنا لکھنا، زندگی میں آگے بڑھنا اور ایک پرامن شہری بننا چاہتی ہوں۔
خاتون کا یہ بیان اس پراپیگنڈے کی نفی کرتا ہے کہ خواتین اپنی مرضی سے ان تنظیموں کا حصہ بنتی ہیں۔ حقیقت میں دہشت گرد تنظیمیں معصوم لڑکیوں کو بلیک میلنگ اور اپنوں کی جان لینے کی دھمکیاں دے کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔




