کوئٹہ :بلوچستان کی سالمیت کے خلاف بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے نیٹ ورک "فتنہ الہندوستان” کو اس وقت شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب صوبے کے غیور اور محبِ وطن خاندانوں نے ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث اپنے ہی رشتہ داروں سے علانیہ لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔
لسبیلہ پریس کلب میں ہونے والی ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران نیٹ ورک سے مبینہ طور پر وابستہ ثانیہ نامی خاتون کے والد نے اپنی بیٹی کے پاکستان مخالف اقدامات کی شدید مذمت کی اور حب الوطنی کے جذبے کے تحت اسے اپنی جائیداد اور خاندان سے عاق کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔
خاندانی سطح پر لاتعلقی کا یہ سلسلہ صرف لسبیلہ تک محدود نہیں رہا، بلکہ پنجگور، گوادر اور تربت سے تعلق رکھنے والے مزید تین شہریوں نے بھی پریس کانفرنسز اور عوامی بیانات جاری کیے ہیں۔ ان شہریوں نے فتنہ الہندوستان کا حصہ بننے والے اپنے سگے بھائیوں کے اقدامات سے شدید بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے ان سے تمام خاندانی رشتے ناطے توڑنے کا اعلان کیا۔ بلوچ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ملکی دفاع اور سالمیت ان کے لیے سب سے مقدم ہے اور وہ ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار بننے والے کسی بھی شخص کا ساتھ نہیں دیں گے۔




