پاکستان
Trending

نئے عدالتی سال کا آغاز، سپریم کورٹ میں 86 اصلاحاتی اقدامات پر پیش رفت

 

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ تقریب منعقد ہوئی، جس میں ججز، سینئر وکلا، اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کے نمائندگان نے شرکت کی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی اصلاحات کا بنیادی مقصد عوام کو بروقت اور بہتر انصاف فراہم کرنا ہے۔ عدالتی آزادی کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب بھی ناگزیر ہے۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ 8 شعبوں میں 86 اصلاحاتی اقدامات پر کام جاری ہے، جن میں سے 65 مکمل، 8 پر پیش رفت جبکہ 13 اقدامات پر مزید توجہ درکار ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق سپریم کورٹ میں مقدمات کی ڈیجیٹائزیشن اور بارکوڈنگ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ای فائلنگ، ای آفس، پیپر لیس کورٹس اور فیصلوں و احکامات کی الیکٹرانک ترسیل بھی اصلاحات کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اصلاحات کا اگلا مرحلہ مربوط ڈیجیٹل نظامِ انصاف کا قیام ہے، جس کیلئے مضبوط ڈیٹا انفراسٹرکچر اور سائبر سکیورٹی ضروری ہے۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور ضلعی عدلیہ کیلئے یکساں قومی ای فائلنگ فریم ورک کی تیاری پر کام جاری ہے، جبکہ بار کونسلز کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی اور متبادل حلِ تنازعات کے فروغ کو بھی عدالتی اصلاحات میں اہم مقام دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے بین الاقوامی عدالتی تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے اور چین و ترکیہ کی اعلیٰ عدالتوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد جاری ہے۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق سپریم کورٹ میں عوامی سہولت مرکز اور ڈیجیٹل رابطہ کاری کے نظام کو مزید مضبوط کیا گیا ہے، جبکہ لاہور رجسٹری میں عوامی سہولت مرکز نومبر کے وسط تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button