بیجنگ: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اپنے چین کے دورے کے دوران بیجنگ میں چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے میں مل کر آگے بڑھنے اور پانچ نئی اقتصادی راہداریوں پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان باضابطہ بات چیت ہوئی اور وزیراعظم شہباز شریف کے اعزاز میں چینی وزیراعظم نے ظہرانہ بھی دیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوستی اور اس میں مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے چین کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی، خودمختاری اور معاشی اصلاحات میں چین کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک پاکستان کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے، اور قراقرم ہائی وے، ریلوے لائن-1 کی اپگریڈیشن اور گوادر بندرگاہ کو جلد مکمل فعال بنانا اب حکومت کی ترجیح ہے۔
اس ملاقات میں 2024 سے 2029 تک کے لیے ایک مشترکہ ایکشن پلان پر دستخط کیے گئے ہیں ، جس کے تحت دونوں ممالک زراعت، آئی ٹی، ٹیکنالوجی، میڈیا اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دیں گے۔
وزیراعظم نے بیجنگ میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس کا ذکر بھی کیا، جس میں پاکستان کی 300 اور چین کی 500 کمپنیاں شرکت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، ٹیکسٹائل، کان کنی، صنعت اور آئی ٹی پاکستان کے اہم شعبے ہیں جن میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان جلد چین کی کیپٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ مالیاتی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ کے عالمی ترقی، سلامتی اور تہذیبی تعاون کے اقدامات کی بھرپور حمایت کی۔ آخر میں دونوں ممالک نے 2026 میں پاک چین تعلقات کی 75ویں سالگرہ شاندار انداز میں منانے کا فیصلہ بھی کیا۔




