خصوصی امریکی انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سقوط کابل کے بعد امریکا نے طالبان حکومت کو 4 سال میں 3.83 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی، لیکن افغان حکومت کی بدانتظامی اور کرپشن نے اس امداد کے اثرات کو محدود کر دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا اور طالبان کے دوحہ مذاکرات میں افغان حکومت کو نظرانداز کرنا ریاستی ڈھانچے کی کمزوری کا سبب بنا، جس کی وجہ سے امریکی انخلا کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز تیزی سے بکھر گئیں۔ اس سے ملک میں سیاسی اور سیکیورٹی بحران نے جنم لیا۔
20 سالہ جنگ اور تعمیر نو کے دوران امدادی منصوبے اکثر ناکام رہے اور ان کا زیادہ فائدہ افغان حکومت کے محدود حلقوں تک ہی پہنچا، جبکہ عام شہری ترقی کی سہولیات سے محروم رہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مستقبل میں افغانستان میں استحکام اور ترقی کے لیے شفاف حکمرانی، مضبوط ریاستی ڈھانچہ اور مقامی حکومت کی شمولیت ناگزیر ہے۔
ماہرین کے مطابق، رپورٹ افغان بحران اور امریکی امداد کے نتائج کو واضح کرتی ہے، اور عالمی برادری کے لیے یہ سبق بھی فراہم کرتی ہے کہ غیر ملکی امداد کے اثرات کا انحصار مقامی انتظامیہ کی شفافیت اور مؤثر حکمرانی پر ہوتا ہے۔




