نئی دہلی: سکھ برادری میں خالصتان تحریک نے ایک بار پھر زور پکڑنا شروع کر دیا ہے۔ سکھ فار جسٹس تحریک نے اعلان کیا ہے کہ وہ 23 نومبر کو خالصتان کے حق میں ایک ریفرنڈم کا انعقاد کرے گی، جو ان کے مطالبات اور شناخت کی عالمی سطح پر نمائندگی کا ذریعہ ہوگا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مودی سرکار کی ہندوتوا نظریات اور اقلیتوں کے خلاف سخت حکمت عملیوں کی وجہ سے سکھ برادری میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اقلیتوں پر جبر اور دباؤ کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے خالصتان کے مطالبات میں شدت آ رہی ہے۔
سکھ فار جسٹس تحریک کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی سیاسی آواز کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے، جسے حکومت کی جانب سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔




