اسلام آباد:ترکیہ میں منعقدہ پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم (ADF 2026) کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور امریکی صدر کے سینئر مشیر مسعد بولس کے درمیان ہونے والی ملاقات نے عالمی سفارتی حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔دورانِ ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ‘ڈیٹرمنڈ’ قیادت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس جب پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ تھے، تو صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت نے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ بندی کی راہ ہموار کی۔
وزیراعظم نے لبنان میں قیامِ امن کے لیے امریکی صدر کی کوششوں کو عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
وزیراعظم نے ملاقات میں پاکستان کے نئے موقف کو دہرایا کہ پاکستان، امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کے ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن کے لیے "اسلام آباد مذاکرات” کی اہمیت اور پاکستان کی مسلسل کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
صدر ٹرمپ کے مشیر مسعد بولس نے وزیراعظم کو امریکی صدر کا خصوصی تہنیتی پیغام پہنچایا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان خطے میں استحکام کے لیے ایک ناگزیر شراکت دار ہے۔ امریکہ اقتصادی ترقی، انسدادِ دہشت گردی اور دیگر عالمی چیلنجز پر پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔




