انطالیہ/اسلام آباد : عالمی توانائی کی منڈی میں اس وقت بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے جہاں ایرانی وزیر خارجہ کے ایک بیان نے خام تیل کی قیمتوں کا رخ موڑ دیا ہے۔آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی تصدیق ہوتے ہی خام تیل کی قیمتیں یکدم گرگئیں۔قیمت میں 10 فیصد کی بڑی گراوٹ، ریٹ 91 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ پونے 7 فیصد کمی کے بعد 87.95 ڈالر کی سطح پر ٹریڈنگ کر رہا ہے۔
توانائی کے سستا ہونے کی امید نے یورپی اسٹاک ایکسچینجز میں نئی روح پھونک دی ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور سوئٹزرلینڈ کی مارکیٹوں میں 1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کے مطابق تجارتی راستہ کھلنے سے عالمی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔
آبنائے ہرمز سے سپلائی کی بحالی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی کمی کی علامت ہے، بلکہ یہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا ‘بوسٹر’ ثابت ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر سپلائی کا تسلسل برقرار رہا تو عالمی سطح پر مہنگائی کی لہر میں واضح کمی آئے گی۔




