ہمارے محلے میں جھالروں اور دودھیا روشنی کے درجنوں برقی بلبوں سے آراستہ شاندار منڈب تیار کیا گیا ہے۔ اِس پر تین قدِ آدم بیل براجمان ہیں۔ پیروں میں جھانجریں، ٹانگوں پر مہندی کے بیل بوٹے، گردن میں پیتل کی چھوٹی چھوٹی گھنٹیوں والے سنہری گلوبند، ماتھے پر طلائی تارکشی والا مخملیں ٹیکہ، کمر میں سُرخ رنگ کی چمک پٹی اور روغنِ زیتون کی مالش سے دمکتے سینگ۔
روزانہ عشا کے بعد محلے میں ان تینوں مہمانوں کی ٹہلائی ہوتی ہے۔ ایک ایک گلی سے گزران ہوتا ہے تاکہ سب علاقہ معززین کو یاد رہے کہ پچیس، تیس لاکھ روپے کا جانور اور اس کے ٹھاٹھ باٹھ کیا ہوتے ہیں۔
محلے کے بچوں کی پچھلے دس دن سے یہی عید ہے کہ اس منڈب کے آس پاس منڈلاتے رہتے ہیں اور جوش و خروش سے ان بیلوں کی ٹہل سیوا میں شامل ہیں۔
مگر وہ بوڑھے ہی کیا جو لونڈوں بالوں کو ذرا دیر کے لیے خوش دیکھ لیں۔ اپارٹمنٹ بلڈنگ کے صدر دروازے کے باہر چبوترے پر سرِشام کرسیاں ڈالے محروم جوانیوں کے ڈسے چار، پانچ ریٹائرڈ بزرگ ہر راہ گزرتے محلے دار کے لیے انسانی سکینرز ہیں۔ میں بھی کبھی کبھی اُن کے پاس بیٹھ کر ٹائم مشین کی سواری کے مزے لیتا ہوں۔ اِن دنوں ان پنشن یافتگان کا موضوع بڑی عید اور بے راہ روی ہے۔
’بھائی مشتاق آپ کو یاد ہو گا کہ ہمارے بچپنے تک ہمارے بزرگوں کا عیدالضحی کی قربانی کا تصور اس نظریے سے جڑا ہوا تھا کہ ہم سنتِ ابراہیمی کے اتباع میں اس لیے جانور قربان کرتے ہیں تاکہ ہمارے اندر بھی باہمی ایثار و قربانی کا جذبہ سال میں کم از کم ایک بار تو ضرور بیدار ہو مگر وہ جو کہتے ہیں کہ بس حرف رہ گئے ہیں کرامت نہیں رہی۔




