کراچی: ایپ سپ کے زیر اہتمام ملک گیر آگاہی مہم "2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں” کے سلسلے میں آئی او بی ایم کورنگی کریک میں ایک اہم سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایپ سپ پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہمیں اپنی سمت کا درست تعین کرنا ہوگا۔
پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم اپنی سمت کو درست کریں، تو کامیابی کی منزل خود بخود سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے کہا، "ہم ڈاکٹر، انجینئرز تو بنا رہے ہیں لیکن بہترین انسان نہیں بنا رہے۔” ان کے مطابق، ملک کی ترقی کے لیے انفرادی سطح پر کردار سازی ضروری ہے، کیونکہ صرف تعلیم اور مہارت سے ترقی کی منزل نہیں مل سکتی، بلکہ اچھے انسان بننے کی ضرورت بھی ہے۔
پاکستان کی موجودہ حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے، پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ "پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے، مگر شفافیت میں ہمارا 137 واں نمبر ہے، اور ہم ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں ان ممالک کے ساتھ کھڑے ہیں جہاں خانہ جنگی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں تبدیلی لانے کے لیے قوم کو یکجہتی اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
کراچی کے حوالے سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "کراچی کی حالت پر رونا آتا ہے، لیکن اگر ہم سب مل کر کام کریں تو اس شہر کی تقدیر بدل سکتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ شہر کی بہتری کے لیے سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ طلبہ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔
ان کا پیغام واضح تھا کہ "ہمیں نبی کریم ﷺ کے اصولوں کو اپنانا ہوگا تاکہ ہم ایک بہترین معاشرہ قائم کر سکیں۔” پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ اگر وہ کامیاب اور منفرد بننا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی سمت درست کرنی ہوگی تاکہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکیں.




