حیدرآباد/اسلام آباد:پاکستان میں پولیو وائرس ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے۔ سندھ کے شہر حیدرآباد سے پولیو کا نیا کیس سامنے آ گیا ہے، جس کے بعد رواں سال 2025 میں متاثرہ بچوں کی تعداد 27 ہو گئی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) کے مطابق سندھ میں اب تک 7 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جو صوبے میں وائرس کی مسلسل گردش کا واضح ثبوت ہے۔ ماہرین صحت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال حکومت اور والدین دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
ای او سی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولیو اب بھی ایک جان لیوا اور لاعلاج مرض ہے، جو صرف ایک قطرے سے روکا جا سکتا ہے۔ والدین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پولیو مہم کو سنجیدگی سے لیں اور ہر بار بچوں کو قطرے ضرور پلائیں۔
ملک گیر سطح پر آئندہ انسدادِ پولیو مہم 13 سے 19 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ اس دوران 4 لاکھ سے زائد ورکرز ملک بھر میں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ویکسین پلائیں گے۔




