بیجنگ : چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی فاصلوں پر خاموشی توڑتے ہوئے فریقین کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال ایک "انتہائی خطرناک موڑ” پر پہنچ چکی ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کو بچانے کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کر دی ہے۔
چینی ترجمان نے پریس بریفنگ میں اعلان کیا کہ بیجنگ محض خاموش تماشائی نہیں رہے گا بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل میں اپنا "تعمیری کردار” ادا کرے گا تاکہ تعطل کو ختم کیا جا سکے۔ چین نے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور طے شدہ جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ بیجنگ کے مطابق، ذمہ دارانہ رویہ ہی خطے کو کسی نئی جنگ سے بچا سکتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ فریقین زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمے دارانہ انداز میں کام کریں گے اور مذاکرات کو سبوتاژ ہونے سے بچائیں گے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق چین کا یہ بیان تہران اور واشنگٹن کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ بیجنگ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے متحرک ہو چکا ہے۔ ایران کے حالیہ سخت موقف کے بعد، چین کی شمولیت سے مذاکرات کے دوبارہ پٹری پر آنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔




