لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ میں ماں بیٹی کی کھلے مین ہول میں ڈوب کر ہلاکت کو انتظامیہ کا "مجرمانہ قتل” قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کر دی۔ وزیراعلیٰ نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو فوری طور پر عہدے سے فارغ کرنے کے ساتھ ساتھ واقعے کے ذمہ دار پراجیکٹ مینیجرز کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعلیٰ کو دی گئی بریفنگ میں یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ جائے وقوعہ پر تعمیراتی کام جاری تھا مگر حفاظتی اقدامات صفر تھے۔ شدید اندھیرے اور کسی قسم کی وارننگ نہ ہونے کی وجہ سے ماں اور بیٹی رکشے پر سوار ہوتے وقت مین ہول میں جا گریں۔ انتظامیہ کو ابتدائی طور پر اس المیے کی خبر تک نہ ہوئی، جس نے مانیٹرنگ سسٹم کی قلعی کھول دی۔
مریم نواز نے پولیس کی جانب سے متاثرہ شوہر کے ساتھ کیے گئے سلوک کو "ظلم کی انتہا” قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ "جس کا گھر لٹ گیا، پولیس نے اسے سہارا دینے کے بجائے تھانے میں بند کر دیا؟ یہ کس قسم کی تفتیش ہے؟ میاں بیوی کے تعلقات جیسے بھی ہوں، وہ انتظامیہ کی نااہلی کا پردہ نہیں بن سکتے۔
وزیراعلیٰ کے حکم پر فوری طور پر درج ذیل کارروائیاں عمل میں لائی گئیں ڈی سی لاہور کو غفلت برتنے پر عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ پراجیکٹ مینیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کو گرفتار کر کے حوالات منتقل کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے ایل ڈی اے، واسا، کمشنر اور اے سی کو بھی واقعے کا قصوروار ٹھہراتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔وزیراعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پنجاب میں ہر جان، یہاں تک کہ جانور کی جان بھی قیمتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مجرمانہ غفلت پر وہ خود کو بھی عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتی ہیں اور اب صرف معطلی نہیں بلکہ عبرتناک سزائیں دی جائیں گی۔




