اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحری تعطل کے خاتمے کی جانب ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فورسز نے اپریل میں قبضے میں لیا گیا ایرانی بحری جہاز ‘ایم وی توسکا’ عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ امریکا نے اس جہاز کو پاکستان کے سپرد کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ اسلام آباد ایک قابلِ اعتماد ثالث ہے۔
جہاز کی پاکستان منتقلی کا مقصد اسے باقاعدہ قانونی عمل کے ذریعے بحفاظت ایران کے حوالے کرنا ہے۔ ایم وی توسکا کو اپریل 2026 میں امریکی بحریہ نے مشتبہ سرگرمیوں کے الزام میں قبضے میں لیا تھا۔ جہاز کا مکمل عملہ اس وقت پاکستان میں موجود ہے اور ان کی واپسی کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔
یہ اقدام صدر ٹرمپ کے اس حالیہ دعوے کی کڑی معلوم ہوتا ہے جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ مثبت بات چیت کا ذکر کیا تھا۔بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، پاکستان کی زمین کو اس حساس منتقلی کے لیے استعمال کرنا تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی بحالی کا ایک بڑا سنگِ میل ہے۔




