واشنگٹن / اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے ہیں اور امریکہ نے ایران کے خلاف اپنے فوجی آپریشنز کو بریک لگا دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کی جانب بڑی پیش رفت کا اعتراف کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں جاری امریکی فوجی مشن ‘پروجیکٹ فریڈم’ کو عارضی طور پر معطل کرنے کا بڑا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ عارضی جنگ بندی پاکستان اور دیگر اہم اتحادی ممالک کی طرف سے کشیدگی میں کمی لانے کی مخلصانہ اپیلوں کے بعد کی گئی ہے۔ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات میں انتہائی مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جس کے بعد اب عسکری طاقت کے بجائے سفارت کاری کو موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ عسکری آپریشن ‘پروجیکٹ فریڈم’ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی فی الحال برقرار رہے گی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ مذاکرات حتمی معاہدے کی شکل اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔




