سکھر : سندھ کی زرعی اور اقتصادی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھر بیراج کی بحالی اور جدید کاری (اپ گریڈیشن) کے تاریخی منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ بیراج سندھ کے زرعی مستقبل کی ضمانت اور پاکستان کی غذائی سلامتی کا محور ہے
سکھر بیراج کو تعمیر ہوئے تقریباً ایک سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے، جس کے بعد اب پہلی مرتبہ 23 ارب 43 کروڑ روپے سے زائد کی خطیر لاگت سے اس کے فرش اور اہم انفراسٹرکچر کی جامع بحالی کا کام کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔ اس تجدید کاری کے تحت بیراج کے 44 پرانے گیٹس کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور خودکار نظام سے لیس نئے گیٹس سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس اہم پیشرفت سے پانی کی ترسیل اور نگرانی کا نظام اب ماضی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ موثر اور محفوظ ہو گیا ہے، جو صوبے کے لاکھوں آبادگار خاندانوں کے معاشی مستقبل کو تحفظ فراہم کرے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ اس منصوبے کی بدولت بیراج اب سیلابی صورتحال اور غیر متوقع پانی کے بہاؤ سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جس سے سندھ کا آبپاشی نظام مزید مضبوط ہو گا۔ انہوں نے محکمہ آبپاشی کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ منصوبے کے بقیہ تمام امور کو جون 2027ء تک لازمی مکمل کیا جائے۔
تقریب کے دوران صوبے کے آبی ذخائر پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ حکومت نے 9.585 ارب روپے کی لاگت سے گڈو بیراج کی بحالی کا اہم ہدف بھی حاصل کر لیا ہے۔ گڈو بیراج کے تمام 56 مرکزی گیٹس اور 25 کینال ہیڈ ریگولیٹر گیٹس کامیابی سے تبدیل کیے جا چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت آبی ڈھانچوں کے تحفظ اور صوبے کی زراعت کو مستقل بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔




