لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ جولائی، اگست اور ستمبر کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ بعض شہروں میں درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ انہوں نے مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام اداروں کو مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت کردی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اور اس کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مون سون کے دوران پنجاب کے بعض علاقوں میں زیادہ بارشوں کا امکان ہے، جس سے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ محکمہ موسمیات، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ مل کر ارلی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنا رہے ہیں تاکہ موسم کی صورتحال کے بارے میں بروقت آگاہی حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پانچ اضلاع میں ہائی ٹمپریچر کا خطرہ ہے، جبکہ پانی کی کمی والے علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ مویشیوں کے لیے خوراک اور پانی کے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مون سون بارشوں سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور سیلابی صورتحال میں تمام ادارے متحرک رہیں گے۔ انہوں نے شہریوں کو دریاؤں اور نہروں میں نہانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔
مریم نواز نے ریسکیو 1122 کی گزشتہ سیلاب کے دوران کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالات میں اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ انتہائی ضروری ہے۔
اجلاس میں کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ "اپنی چھت، اپنا گھر” اسکیم کے تحت شہریوں کو گھر بنانے کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا، جبکہ پنجاب بھر سے لوگ اس سہولت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔




