رہنما تحریک انصاف علی محمد خان نے کہا کہ میرا نہیں خیال یہ تاثر درست ہے کہ عمران خان کی فیملی ایک طرف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپوردوسری طرف ہیں، کسی چیز پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے، جہاں تک میں علی امین کو جانتا ہوں وزیر اعلیٰ صاحب یہی چاہتے ہیںکہ بجٹ بھی پاس ہو لیکن صوبائی حکومت بچی رہے، حکومت عمران خان صاحب کی امانت ہے اور ایک طرح سے آخری قلعہ ہے، میں خود بھی اس پر یقین رکھتا ہوں صوبائی حکومت عمران خان صاحب کا آخری اور سب سے مضبوط قلعہ ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں سے تحریک انصاف کو اسٹرنتھ ملتی ہے۔
سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان تو بات چیت کیلیے تیار ہے، کبھی بھی انکار نہیں کیا جو انکار ہے پچھلے نو سال سے وہ ہندوستان کی طرف سے ہے، امریکا نے بھی جب ان کو تجویز دی تب بھی انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا، اگر آج ہندوستان اپنے رویے پر نظر ثانی کرے تو بات چیت کل ہو سکتی ہے لیکن وہ ابھی تک کر نہیں رہا، اس کی وجہ اس کا جو ایک گھمنڈ تھا، تکبر تھا، وہ یہ سمجھتا تھا کہ اس نے پاکستان کو تنہا کر دیا ہے یا تنہا کرنا چاہتا ہے، یہ سب باتیں غلط ثابت ہوئی ہیں، جو جو یہ کام کرتے تھے پہ در پہ ناکامیاں ہو رہی ہیں۔




