بین الاقوامیپاکستان

سیاست دان نہیں، صرف ایک بیٹا ہوں، والد کو جیل سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں، قاسم خان

ریئل وائس امریکہ کے شو جسٹ دی نیوز کے ساتھ انٹرویو میں، سابق پاکستانی وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے اپنے والد کی موجودہ قید اور پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے گفتگو کی

میزبان جان سولومن اور امانڈا ہیڈ سے گفتگو کرتے ہوئے قاسم خان نے انکشاف کیا کہ ان کے والد کو جیل میں غیر انسانی حالات کا سامنا ہے، جن میں قید تنہائی، آلودہ پانی کی فراہمی اور طبی سہولیات کی شدید قلت شامل ہے۔ ان کے بقول، قیدیوں کو نہانے کے لیے کیچڑ ملا پانی دیا جاتا ہے، جبکہ صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث کئی قیدی استعمال شدہ طبی آلات کے ذریعے مہلک بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ قاسم کا کہنا تھا کہ یہی جیل ماضی میں ہیپاٹائٹس سی کے باعث کم از کم دس قیدیوں کی جان لے چکی ہے۔

محسوس ہوتا ہے کہ حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں

عمران خان کے صاحبزادے نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان، جو اب تقریباً دو سال سے نظر بند ہیں، بنیادی طور پر ایک سیاسی قیدی ہیں۔ اس کے خلاف دائر 200 سے زائد مقدمات میں سے کچھ میں سے کلیئر ہونے کے باوجود، نئے الزامات کا اضافہ جاری ہے، جس سے ان کی رہائی بہت دور دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

امریکہ سے مدد کی اپیل

قاسم خان نے اپنے والد کی قید کے بارے میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ خاندان اب مدد کے لیے امریکہ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اقوام متحدہ یا ایمنسٹی انٹرنیشنل کا جواب نہیں دے رہی ہے۔ امریکہ ہی واحد راستہ بچتا ہے۔

قاسم خان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں مختلف سیاسی حلقوں، بشمول سابق ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر اہلکار رچرڈ گرینل، نے ان کے والد کے معاملے پر سنجیدہ دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ گرینل سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے قاسم نے کہا کہ وہ نہایت خوش اخلاقی سے پیش آئے اور گفتگو میں بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا۔ قاسم خان نے اس ملاقات کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس رابطے سے کوئی نتیجہ خیز راہ نکل سکتی ہے۔

چار ماہ سے کوئی رابطہ نہیں

قاسم خان نے انکشاف کیا کہ خاندان کا عمران خان سے چار ماہ سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکے والد کو صرف دو گھنٹے دن کی روشنی ملتی ہے، اور یہاں تک کہ ان کے ذاتی ڈاکٹر کو بھی آٹھ مہینوں سے ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انٹرویو کے دوران ایک موقع پر قاسم خان اپنے والد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے اور کہا کہ انہوں نے اپنے والد کو آخری بار ڈھائی سال پہلے دیکھا تھا، دو ہزار پائیس میں قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کے فوراً بعدانہیں ایک غیر محفوظ جیل کی کوٹھری میں ڈال دیا گیا۔ قاسم نے کہا کہ میں سیاست دان نہیں ہوں، اور میں نہیں بننا چاہتا۔ میں صرف ایک بیٹا ہوں، اپنے باپ کو جیل سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ قاسم نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان کی طویل قید کا ذمہ دار ٹھہرایا اور پاکستان کے موجودہ سیاسی ماحول کو "آمرانہ” قرار دیا

عمران خان عوام میں مقبول، پھر کیوں ہٹایا؟

یہ پوچھے جانے پر کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو ان کی عوامی حمایت کے باوجود کیوں نشانہ بنایا، قاسم نے اپنے والد کی بڑھتی ہوئی طاقت کے خوف کی طرف اشارہ کیا۔ قاسم نے کہا کہ ” دھاندلی، انٹرنیٹ کی بندش، اور نااہلی کے باوجود، انکے والد نے جیل کی کوٹھری سے بھی، دو تہائی اکثریت حاصل کی اور جیت گئے۔” قاسم خان نے 2024 کے انتخابات سے چند دن قبل، پی ٹی آئی کے انتخابی نشان، کرکٹ بیٹ کو چھیننے پر بھی روشنی ڈالی۔

قاسم نے انٹرویو کے اختتام پر کہا کہ ان کے والد کی آزمائش صرف ایک ذاتی المیہ نہیں ہے بلکہ 250 ملین پاکستانیوں کی جمہوری مرضی کا بھی انکار ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button