لاہور: دنیا بھر میں آج 5 دسمبر کو مٹی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد زمین کی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور زمینی وسائل کو پائیدار طریقوں سے استعمال کرنے پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں مٹی کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، کیونکہ ہماری غذائی ضروریات کا 95 فیصد حصہ مٹی سے حاصل ہوتا ہے، اور اس کی حفاظت ہماری بقاء کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان سمیت دنیا بھر میں کیمیائی کھادوں اور بے جا کیمیکلز کے استعمال کے باعث مٹی میں طبعی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اگرچہ کیمیکلز کے استعمال سے پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر ان کے استعمال سے غذائیت کا عنصر کم ہو رہا ہے، جو کہ انسانی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔ زیادہ کیمیائی سپرے کے نتیجے میں مٹی کی زرخیزی متاثر ہو رہی ہے اور زمین بنجر ہوتی جا رہی ہے، جو کہ پیداوار کی مقدار اور معیار دونوں پر برا اثر ڈال رہا ہے۔
گٹر کا پانی بھی مٹی کی خرابی کا باعث بن رہا ہے، جو کہ ماحولیاتی مسائل میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ اس سلسلے میں عوام اور کسانوں کو آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مٹی کی حفاظت کے حوالے سے اقدامات کریں اور پائیدار زرعی طریقوں پر عمل کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند اور زرخیز زمین سے ہی اچھی فصلوں کی پیداوار ممکن ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر اپنے ماحول اور مٹی کی حفاظت کے لیے اقدامات کریں تاکہ آئندہ نسلوں کو بھی ایک صاف، صحت مند اور زرخیز زمین فراہم کی جا سکے۔




