بین الاقوامی

جاپان کی تاریخ میں پہلی بار خاتون وزیر اعظم منتخب

ٹوکیو: جاپان کی تاریخ میں پہلی بار سانائے تاکائچی کو ملک کی وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا ہے، اور اس طرح وہ جاپان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق، سانائے تاکائچی کو جاپان کی پارلیمنٹ کے 465 ارکان میں سے 237 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ انہیں وزیر اعظم منتخب ہونے کے لیے 233 ارکان کی حمایت درکار تھی، جو انہوں نے کامیابی سے حاصل کی۔

سانائے تاکائچی کا سیاسی سفر انتہائی دلچسپ اور محنت سے بھرپور رہا ہے۔ وہ ایک سابقہ ٹی وی اینکر اور میوزک بینڈ کی ڈرمر رہ چکی ہیں۔ 1993 میں انہوں نے جاپانی سیاست میں قدم رکھا اور بطور آزاد اُمیدوار ایوانِ زیریں کی نشست جیتی۔ اگرچہ وہ اپنے پہلے پارلیمانی انتخاب میں کامیاب نہیں ہو سکیں، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اگلے سال آزاد حیثیت میں اسمبلی کی رکن منتخب ہو کر 1996 میں جاپانی جماعت ایل ڈی پی میں شامل ہو گئیں۔

تاکائچی نے اپنی سیاست میں 10 بار پارلیمنٹ کی نشست جیتی اور ایک بار انتخابی سیاست میں شکست بھی کھائی، تاہم وہ جاپان کی قدامت پسند پارٹی کی متحرک آواز کے طور پر مشہور ہو گئیں۔ انہوں نے وزیر برائے اقتصادی تحفظ، تجارت و صنعت، داخلہ اور مواصلات جیسے اہم عہدوں پر بھی کام کیا۔

انہوں نے 2021 میں پہلی بار ایل ڈی پی کی قیادت کے لیے دوڑ میں حصہ لیا، مگر سابق وزیراعظم فومیو کشیدا سے شکست کا سامنا کیا۔ تاہم، سانائے تاکائچی نے ہمت نہ ہاری اور 2024 میں دوبارہ قیادت کی دوڑ میں شامل ہوئیں۔ اس بار وہ ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں سرفہرست رہیں، لیکن بالآخر وزیراعظم شیگیرو ایشیبا کے ہاتھوں شکست کھا گئیں۔

رواں برس اپنی تیسری کوشش میں سانائے تاکائچی کو کامیابی حاصل ہوئی اور پارلیمنٹ نے ان کی تقرری کی توثیق کر دی، جس کے ساتھ ہی جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button