اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر افغان حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرتی ہے تو پاکستان ان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ اس نے پارلیمانی رہنماؤں کو امن، سلامتی اور ترقی جیسے اہم موضوعات پر ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن اور استحکام ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں، اور پاکستان نے ہمیشہ اپنے دفاع اور استحکام کے لیے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کو یہ دکھایا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا، اور افغان حکومت کے ساتھ تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پورے خطے کے لیے خوشحالی کا دروازہ کھولے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مظلوم اقوام کی حمایت کی ہے، اور شدت پسند گروہ افغانستان اور خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان میں امن اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے، اور پاکستان اپنے اقتصادی اور سماجی اہداف کو پورا کرنے کے لیے پوری دنیا سے تعاون کے لیے تیار ہے۔
پاکستان میں جاری اقتصادی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے جامع معاشی اصلاحات کا آغاز کیا ہے، جن میں خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا، ادارہ جاتی مضبوطی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین کو ڈیجیٹل مہارتیں سکھانے اور مالی سہولتیں فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری میں آسانی اور ماحولیاتی استحکام کے لیے بھی کام کر رہا ہے، کیونکہ کوئی ملک تنہا ترقی نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تقدیریں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور پارلیمان عوام کی امانت اور امیدوں کی محافظ ہے۔ "عوام کے خوابوں اور توقعات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانا ہماری ذمہ داری ہے،” انہوں نے کہا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اس کانفرنس میں ہونے والی دانشمندانہ گفتگو ہمارے اجتماعی سفر کو مزید مستحکم کرے گی۔ ان کی خواہش ہے کہ دنیا کی تمام اقوام امن، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے متحد ہوں، اور ایک ایسا مستقبل تشکیل دیا جائے جو پائیدار امن اور انسانی ترقی پر مبنی ہو۔




