اسلام آباد: آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ میں پاکستان کے شوگر سیکٹر میں اشرافیہ اور حکومتی ریگولیٹرز کے گٹھ جوڑ کے سنگین انکشافات کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شوگر مل مالکان سبسڈیز، حفاظتی ڈیوٹیز، ری کمنڈڈ گنے کی قیمتوں اور ایکسپورٹ پالیسیوں پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں عوام پر قیمتوں کا بوجھ پڑا اور ملک میں چینی کی قلت پیدا ہوئی۔ مزید انکشافات میں ذخیرہ اندوزی، منی لانڈرنگ اور فیک اکاؤنٹس کے ذریعے ناجائز منافع کے شواہد شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی شخصیات کی مداخلت کے باوجود احتساب محدود رہا اور شوگر کارٹل بدستور موجود ہیں۔




