ماسکو : روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جارحیت کو مسترد کرتے ہوئے تہران کی خودمختاری کے دفاع کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر پیوٹن نے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطے میں سپریم لیڈر کی شہادت پر تعزیت کی اور ایران کو ہر ممکن روسی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
امریکی اخبار ‘دی واشنگٹن پوسٹ’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ روس اب براہِ راست ایران کو امریکی فوجی نقل و حرکت کی معلومات فراہم کر رہا ہے۔ رپورٹ کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں۔روس نے ایران کو خلیج اور گردونواح میں موجود امریکی بحری جہازوں اور فوجی طیاروں کی حساس لوکیشنز فراہم کی ہیں۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے انہی روسی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول سائٹس پر کاری ضرب لگائی ہے۔ پیوٹن کا یہ اقدام خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو براہِ راست چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔




