تہران: ایرانی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور اسپیکر پارلیمنٹ ڈاکٹر باقر قالیباف نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکراتی پیشکش کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "ہتھیار ڈالنے کا جال” قرار دے دیا ہے۔
ڈاکٹر باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ دھمکیاں اور مذاکرات متضاد سمتوں میں چلتے ہیں؛ دونوں کا ایک ساتھ ہونا ناممکن ہے۔ایرانی اسپیکر نے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے کی میز میں تبدیل کرنے کے خواہش مند ہیں، جو ایران کی غیرتِ ملی کو قبول نہیں۔
ایران نے واضح کر دیا ہے کہ مذاکراتی میز پر دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کرنا پرانی اور ناکام حکمتِ عملی ہے، اس سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ڈاکٹر باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ہم دھمکیوں کے سائے میں بیٹھ کر بات چیت کرنے والی قوم نہیں ہیں۔ اگر امریکہ نتائج چاہتا ہے تو اسے دباؤ اور دھمکیوں کا راستہ چھوڑنا ہوگا۔




