کابل : افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف سیاسی مزاحمت کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ ممتاز افغان رہنما اور حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے طالبان کی حکمرانی کو عوامی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے ملک میں فوری سیاسی تبدیلی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
طالبان کی جابرانہ پالیسیوں نے افغان عوام میں عدم تحفظ اور شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں عوامی مزاحمت زور پکڑ رہی ہے۔گلبدین حکمت یار نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ طالبان کا موجودہ نظام ہرگز عوامی امنگوں کے مطابق نہیں اور اسے اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے شفاف انتخابات اور اقتدار کی عوامی نمائندوں کو منتقلی کو لازمی قرار دیا ہے۔
افغان سیاسی قیادت کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے ملک کو عالمی تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔ گلبدین حکمت یار کے مطابق، فوری اور بنیادی سیاسی اصلاحات کے بغیر افغانستان میں پائیدار امن کا قیام ناممکن ہے، اور عوام اب بندوق کے بجائے ووٹ کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔
سیاسی ماہرین اس بیان کو طالبان حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں، کیونکہ کابل کے اندر سے اٹھنے والی یہ آواز اب دبائی نہیں جا سکے گی۔ اگر طالبان نے اپنا رویہ نہ بدلا تو افغانستان میں ایک نئی سیاسی تحریک کے اٹھنے کے قوی امکانات ہیں۔




