واشنگٹن : واشنگٹن کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ "وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ڈنر” کے دوران فائرنگ کے واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے۔
تقریب کے آغاز پر جب صدر ٹرمپ اسٹیج پر موجود تھے، انہیں اور ان کی ترجمان کو ایک ہنگامی پرچی دکھائی گئی جس کے فوراً بعد ہال میں فائرنگ کی آواز گونجی۔ گولیوں کی آواز سنتے ہی ہال میں موجود 2,600 سے زائد شرکاء اور خود صدر ٹرمپ اپنی نشستوں سے نیچے ہو گئے اور میزوں کے پیچھے پناہ لی۔ سیکریٹ سروس کے اہلکاروں نے فوری طور پر ہتھیار تان لیے اور صدر کو حصار میں لے کر بحفاظت ہال سے باہر منتقل کیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق حملہ آور نے بال روم کے قریب ایک سیکریٹ سروس اہلکار کو گولی ماری۔ گرفتار شوٹر کی شناخت 31 سالہ کول ٹامس کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر حملہ آور کی تصویر جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اسے زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد اپنے پہلے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا یہ واشنگٹن کی ایک غیر معمولی شام تھی۔ سیکریٹ سروس اور پولیس نے انتہائی بہادری اور فوری ردِعمل کا مظاہرہ کیا۔ حملہ آور حراست میں ہے اور ہم سیکیورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی حکام نے واقعے کے بعد ہوٹل کو سیل کر دیا ہے اور حملے کے محرکات جاننے کے لیے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ خاتونِ اول اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی مکمل طور پر خیریت سے ہیں۔
0 22 1 minute read




