اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سولر پینلز لگانے والے شہریوں کے لیے قانونی پیچیدگیاں اور مالی بوجھ ختم کرنے کا بڑا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس خان لغاری کے حکم پر پاور ڈویژن نے نیپرا کو 2015 کی ریلیف پالیسی دوبارہ بحال کرنے کی سفارش کر دی ہے۔
25 کلوواٹ تک بجلی پیدا کرنے والے سولر سسٹمز کو نیپرا سے لائسنس حاصل کرنے کی شرط سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے صارفین کو اب سسٹم کی رجسٹریشن یا لائسنس کی مد میں کوئی اضافی فیس ادا نہیں کرنی پڑے گی۔
پاور ڈویژن نے باقاعدہ طور پر نیپرا سے درخواست کی ہے کہ موجودہ سخت قواعد کو واپس لے کر پرانے آسان قواعد نافذ کیے جائیں۔اس فیصلے کا براہِ راست فائدہ ان گھروں، چھوٹے ہسپتالوں اور نجی دفاتر کو ہوگا جو 25 کلوواٹ تک کا سسٹم استعمال کر رہے ہیں۔ 2015 کی پالیسی کی بحالی سے نیٹ میٹرنگ کے حصول میں حائل رکاوٹیں دور ہو جائیں گی اور عام آدمی کے لیے شمسی توانائی کا حصول مزید آسان ہو جائے گا۔




