اسلام آباد:پہلگام واقعے میں پاکستان کو ملوث کرنے کی بھارتی کوششیں خود شدت پسند تنظیم کے تضادات کی نذر ہو گئیں۔ ایف بی آئی اور عالمی اداروں کی توجہ حاصل کرنے والے اس واقعے میں اب بھارت کو سفارتی سبکی کا سامنا ہے۔
واقعات کی ترتیب سے بھارتی پروپیگنڈے کی قلعی کھلتی نظر آتی ہے۔ ‘دی ریزسٹنس فرنٹ’ نے 22 اپریل کو دھماکے سے اعترافِ جرم کیا، لیکن 25 اپریل کو پراسرار طور پر اس سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ اس تضاد نے ثابت کر دیا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات محض قیاس آرائیاں تھیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شفاف بین الاقوامی تحقیقات کا چیلنج دے دیا، جس کا بھارت کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس کیس کو عالمی سطح پر نہایت مہارت سے لڑا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کو باور کرایا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے والا ملک ہے۔
اسحاق ڈار کے دوٹوک اور شواہد پر مبنی بیانیے کو عالمی طاقتوں نے تسلیم کیا، جس سے بھارتی الزامات کی اہمیت ختم ہو کر رہ گئی۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان نے اس بار دفاعی کے بجائے جارحانہ سفارت کاری اختیار کی ہے۔ نائب وزیراعظم کی جانب سے عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ لڑنا اور بھارت کو تحقیقات کی پیشکش کرنا ایک ذمہ دار ریاست کی پہچان ہے، جس نے بھارتی میڈیا کے جھوٹے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔




