اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں پاکستان ایک کلیدی سفارتی کھلاڑی کے طور پر سامنے آگیا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے نے خطے میں امن کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔
رابطے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے کردار کو محض ایک پڑوسی ملک نہیں بلکہ ایک "مخلص ثالث” کے طور پر سراہا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ایران نے پہلی بار موجودہ صورتحال میں پاکستان کی ثالثی کو باقاعدہ طور پر سراہا ہے۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ طاقت کا استعمال مسائل کو الجھاتا ہے، حل صرف ٹیبل ٹاک میں ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ خطے میں کسی بھی قسم کا تصادم عالمی معیشت اور امن کے لیے تباہ کن ہوگا۔
سفارتی ماہرین کے مطابق، یہ رابطہ اس وقت ہوا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز پر بیانات کی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایران کا پاکستان کی ثالثی پر اعتماد کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اسلام آباد دونوں فریقین کے درمیان ‘بیک چینل ڈپلومیسی’ میں اہم پیش رفت کر چکا ہے۔




