لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے شہری ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لیے ’’پنجاب ڈویلپمنٹ پلان‘‘ کے تحت جاری ترقیاتی کاموں کی خود کمان سنبھال لی ہے۔ اجلاس کے دوران انہوں نے صوبے کے 52 شہروں کو جدید سہولیات سے لیس کرنے اور لاہور کے ہر محلے تک ترقی کا ثمر پہنچانے کے لیے سخت ڈیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔
پنجاب کے اضلاع میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔صوبے کے 51 شہروں میں ’موسٹ کریٹیکل‘ (انتہائی حساس) انفراسٹرکچر کے 40 فیصد اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ان کاموں کا بنیادی مقصد شہروں میں برسوں سے لٹکے ہوئے صفائی، سیوریج اور سڑکوں کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں ترقیاتی کاموں کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ لاہور پلان کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد دوسرا مرحلہ 76 فیصد حد تک مکمل ہو چکا ہے، جس کی کوالٹی پر وزیراعلیٰ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔شہر کی 16 ہزار سے زائد گلیوں کی اپ گریڈیشن اور بیوٹیفکیشن (خوبصورتی) کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے، جس کے تحت اب ہر گلی کو جدید پیرائے میں ڈھالا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اجلاس میں حکام کو دو ٹوک ہدایات دیں۔ "ترقی صرف فائلوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ زمین پر نظر آنی چاہیے۔ لاہور کے فیز تھری کا پلان فوری پیش کیا جائے تاکہ شہر کا کوئی بھی گوشہ بنیادی سہولیات سے محروم نہ رہے۔




