بیجنگ :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ میں اپنے قیام کو ایک یادگار تجربہ قرار دیتے ہوئے چین کے ساتھ دیرینہ دشمنی کے بجائے اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے دور کا بگل بجا دیا ہے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرات کو انتہائی تعمیری قرار دیتے ہوئے انہیں ستمبر میں واشنگٹن کے دورے کی باضابطہ دعوت دے دی ہے
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے چینی میزبانی کی تعریف کرتے ہوئے کہا چین میں ہمارا جس طرح زبردست اور والہانہ استقبال ہوا، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے بیجنگ کے اس تاریخی دورے کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے خوشحالی کا پیغام قرار دیا۔صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ ایک دوسرے کی مخالفت کرنے کے بجائے تجارت کو وسعت دینے پر توجہ دیں۔دونوں طاقتوں نے ایک دوسرے کے مفادات کے احترام پر اتفاق کیا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی حجم کو نئی بلندیوں تک لے جایا جائے گا۔ ان تعلقات کی بہتری براہِ راست عالمی معیشت اور استحکام پر اثر انداز ہوگی۔
دوستی کے اس نئے باب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صدر ٹرمپ نے صدر شی جن پنگ کو 24 ستمبر کو امریکہ کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ستمبر میں ہونے والی یہ ملاقات عالمی سیاست کا رخ بدل سکتی ہے اور اس سے اسٹریٹجک تعلقات میں موجود تناؤ مکمل طور پر ختم ہونے کی توقع ہے۔




