واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے سے متعلق خبر مثبت ہی ہوگی، کیونکہ وہ اپنے ملک کے مفادات پر کوئی ‘بری ڈیل’ نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی نئے معاہدے کا تمام تر دارومدار مکمل طور پر ان کی اپنی قیادت اور شرائط پر منحصر ہے۔
ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر وہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو وہ ایک بہترین اور موزوں ترین معاہدہ ہوگا، جو سابق صدر باراک اوباما کے دور میں کیے گئے ناقص معاہدوں جیسا بالکل نہیں ہوگا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا، "میں ایران کے ساتھ کوئی بھی بری ڈیل نہیں کروں گا۔ اگر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو وہ صرف اور صرف امریکی مفادات کے مطابق ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہوگا”۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی باراک اوباما کے دور میں ہونے والے 2015 کے ایران جوہری معاہدے (JCPOA) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے تاریخ کا بدترین معاہدہ قرار دے چکے ہیں اور یکطرفہ طور پر اس سے الگ ہو گئے تھے۔ ان کا یہ تازہ بیان بھی اسی سخت گیر پالیسی کا تسلسل ہے، جس نے عالمی سفارتی حلقوں میں ایران اور امریکہ کے مابین جاری پسِ پردہ مصالحتی کوششوں اور نئے تزویراتی امکانات کی بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے۔




