تحریر: احتشام علی
پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں سے مسلسل آزمائشوں سے گزر رہی ہے۔ بلند مہنگائی، بڑھتے ہوئے قرضے، توانائی کے بحران، بے روزگاری اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے مسائل نے ملکی معیشت کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں ہر سال پیش کیا جانے والا وفاقی بجٹ صرف آمدن اور اخراجات کا تخمینہ نہیں ہوتا بلکہ حکومت کی معاشی ترجیحات، پالیسی سمت اور مستقبل کے اقتصادی وژن کا عکاس بھی ہوتا ہے۔ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ بھی اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستان ایک طرف معاشی استحکام کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کم ہوتی قوتِ خرید کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 17.1 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس بجٹ کا بنیادی مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھنا، مالیاتی خسارے میں کمی لانا، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنا اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد مقرر کیا ہے جبکہ مہنگائی کی اوسط شرح کو 8.4 فیصد تک محدود رکھنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ یہ اہداف بظاہر حوصلہ افزا دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کا حصول عملی طور پر حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔
پاکستانی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ آج بھی قرضوں کا بوجھ ہے۔ مجوزہ بجٹ کے مطابق تقریباً 7.8 کھرب روپے صرف اندرونی اور بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ کیے جائیں گے۔ یہ رقم مجموعی بجٹ کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہے۔ اس حقیقت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے وسائل کا کتنا بڑا حصہ ترقیاتی منصوبوں کے بجائے ماضی کے قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہو رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو حکومت کے لیے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود جیسے شعبوں میں مطلوبہ سرمایہ کاری کرنا مشکل ہو جائے گا۔
بجٹ میں ایف بی آر کے لیے 15.267 کھرب روپے محصولات جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک کو مالی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے، ٹیکس چوری کی روک تھام اور ڈیجیٹل نظام کے فروغ پر زور دیا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان میں ٹیکس کلچر کی کمزوری اور غیر دستاویزی معیشت کی موجودگی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
حال ہی میں حکومت نے چھوٹے ریٹیلرز اور تاجروں کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا خیال ہے کہ اگر ریٹیل سیکٹر کو مکمل طور پر دستاویزی شکل دے دی جائے تو محصولات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ دوسری جانب تاجروں کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات اور کمزور معاشی سرگرمیوں کے دوران نئے ٹیکس ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں گے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں حکومت کو محصولات بڑھانے اور کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کرنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
دفاعی اخراجات ہر سال پاکستانی بجٹ کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں اور اس سال بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ حکومت نے دفاعی بجٹ کے لیے تقریباً 2.665 کھرب روپے مختص کیے ہیں۔ خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور قومی دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اس اضافے کو ضروری قرار دیتی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو طویل المدتی استحکام کے لیے انسانی ترقی، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں میں بھی اسی سطح کی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ترقیاتی بجٹ یا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے تقریباً 1.1 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ترقیاتی اخراجات کسی بھی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ یہی منصوبے نئی سڑکوں، پلوں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور توانائی کے منصوبوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ تاہم ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف فنڈز کی دستیابی پر نہیں بلکہ شفافیت، بروقت تکمیل اور مؤثر نگرانی پر بھی ہوتا ہے۔
تعلیم اور صحت جیسے شعبے کسی بھی ملک کی طویل المدتی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے ان شعبوں کے لیے بجٹ میں فنڈز مختص کیے ہیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان ابھی بھی تعلیم اور صحت پر عالمی معیار کے مقابلے میں بہت کم خرچ کرتا ہے۔ ملک میں لاکھوں بچے آج بھی معیاری تعلیم سے محروم ہیں جبکہ صحت کے شعبے میں سہولیات کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں بجٹ میں ان شعبوں کے لیے زیادہ وسائل مختص کیے جانے کی توقع کی جا رہی تھی۔
سرکاری ملازمین اور پنشنرز بھی ہر سال بجٹ کے منتظر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی آمدنی براہِ راست حکومتی فیصلوں سے متاثر ہوتی ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ مہنگائی نے متوسط طبقے کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے اور بیشتر ملازمین کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت مالی دباؤ کے باعث بڑے اضافے سے گریز کر سکتی ہے، لیکن کسی نہ کسی شکل میں ریلیف فراہم کرنا ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔
عام شہری کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو بجٹ کی کامیابی کا اصل پیمانہ مہنگائی میں کمی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران خوراک، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اگر حکومت مہنگائی کو واقعی 8.4 فیصد تک محدود رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ تاہم معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی پر قابو پانے کے لیے صرف بجٹ کافی نہیں بلکہ مالیاتی پالیسی، توانائی کے نرخ، زرِ مبادلہ کی صورتحال اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
کاروباری طبقہ اور سرمایہ کار بھی بجٹ کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں کیونکہ ان کے فیصلے حکومتی پالیسیوں سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پالیسیوں کا تسلسل، قانونی تحفظ، توانائی کی دستیابی اور سیاسی استحکام ضروری عناصر ہیں۔ اگر حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا ہے تو معیشت میں نئی سرمایہ کاری آ سکتی ہے، جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس بجٹ کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے تناظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت مختلف مالیاتی اصلاحات پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف مسلسل مالیاتی خسارے میں کمی، ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور غیر ضروری اخراجات کم کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بجٹ میں بھی مالی نظم و ضبط کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا سخت مالیاتی پالیسیوں کے باوجود عوام کو مطلوبہ ریلیف فراہم کیا جا سکے گا؟
بجٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے محصولات بڑھانے، مالی خسارہ کم کرنے اور ترقیاتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے متوازن حکمت عملی اختیار کی ہے۔ دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ بجٹ میں عام شہریوں کو فوری ریلیف دینے کے لیے زیادہ اقدامات نہیں کیے گئے اور محصولات کے اہداف حقیقت پسندانہ نہیں دکھائی دیتے۔
حقیقت یہ ہے کہ بجٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اگر حکومت محصولات بڑھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہوتے ہیں، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے اور مہنگائی قابو میں رہتی ہے تو یہ بجٹ معیشت کے لیے ایک مثبت موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اہداف صرف کاغذی ثابت ہوئے تو عوام کو مطلوبہ معاشی بہتری محسوس نہیں ہوگی۔
اختتاماً یہ کہا جا سکتا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی دستاویز ہے جو استحکام، اصلاحات اور ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ حکومت نے معاشی نمو، محصولات میں اضافے اور مالیاتی نظم و ضبط کے بلند اہداف مقرر کیے ہیں، لیکن اصل امتحان ان اہداف کے حصول میں ہے۔ پاکستانی عوام اب وعدوں سے زیادہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ آنے والے مہینے یہ واضح کریں گے کہ آیا یہ بجٹ واقعی معاشی بحالی کی بنیاد بنے گا یا پھر عوام کے لیے ایک اور مشکل سال کا آغاز ثابت ہوگا۔ ایک کامیاب بجٹ وہی ہوتا ہے جو معاشی اشاریوں میں بہتری کے ساتھ ساتھ عام شہری کی زندگی میں بھی مثبت تبدیلی لائے، اور یہی وہ معیار ہے جس پر اس بجٹ کو جانچا جائے گا۔
نوٹ: youdigital.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے




