بلاگز

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ: وجوہات، اثرات اور عالمی نتائج

تحریر: احد طارق

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ تنازعہ اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے کئی دہائیوں پر محیط سیاسی کشیدگی، نظریاتی اختلافات، جوہری پروگرام کے تنازعات اور علاقائی طاقت کی جنگ شامل تھی۔

امریکہ اور ایران کے تعلقات کی تاریخی پس منظر

1979 کے ایرانی انقلاب سے پہلے ایران امریکہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد حالات بدل گئے اور دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل خراب ہوتے گئے۔ امریکی سفارت خانے کے یرغمالی بحران نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔

جوہری پروگرام کا تنازعہ

ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور مغربی ممالک کو شدید تحفظات رہے۔ 2015 میں ایک جوہری معاہدہ ہوا لیکن بعد میں امریکہ کے اس سے نکلنے کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی۔

اسرائیل کا کردار

ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی بھی اس جنگ کی بڑی وجوہات میں شامل رہی۔ اسرائیل ایران کو اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے جبکہ ایران فلسطینی گروہوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

جنگ کا آغاز

2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف فوجی اور حکومتی اہداف پر حملے کیے جس کے بعد مکمل جنگی صورتحال پیدا ہوگئی۔

ایران کا ردعمل

ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے اور آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھکی دی جس سے عالمی تجارت متاثر ہوئی۔

عالمی معیشت پر اثرات

تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، عالمی منڈیاں متاثر ہوئیں اور مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

انسانی بحران

ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

نتیجہ

یہ جنگ ثابت کرتی ہے کہ عالمی مسائل کا حل طاقت نہیں بلکہ سفارتکاری اور مذاکرات میں ہے۔

نوٹ: youdigital.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

 

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button