بلاگز

آٹھ ہزار کا آدمی

 تحریر: سعدیہ مجید

کہتے ہیں دکھ ہمیشہ چیخ کر اپنا تعارف نہیں کرواتا۔ بعض اوقات وہ ایک خاموش لرزش کی صورت میں ہاتھوں میں اتر آتا ہے، کبھی آنکھوں کی بجھی ہوئی چمک میں چھپ جاتا ہے اور کبھی ہونٹوں پر سجی ہوئی اس مسکراہٹ میں جو دراصل بے بسی کا دوسرا نام ہوتی ہے۔ اسی لیے شاعر نے کہا تھا:

"شراب پیتے پیتے جس کے ہاتھ کانپتے ہوں، سمجھو وہ اندرونی پر زخمی ہے۔”

یہ شعر محض ایک عاشق کی کیفیت بیان نہیں کرتا بلکہ انسانی تجربے کی ایک گہری سچائی کو آشکار کرتا ہے۔ کانپتا ہوا ہاتھ دراصل ایک اندرونی زخم کا ظاہری اظہار ہے۔ جسم ایک ایسی داستان سناتا ہے جسے الفاظ بیان نہیں کر پاتے۔ جو شخص شدید دکھ، محرومی یا جدائی سے گزرتا ہے، اس کی حالت کو اکثر وہ لوگ نہیں سمجھ پاتے جو اس تجربے سے ناواقف ہوں۔مگر اس کے اندر ایک بڑی سماجی سچائی بھی پوشیدہ ہے۔ انسان کی اصل کیفیت اکثر وہ نہیں ہوتی جو ظاہری طور پر دکھائی دیتی ہے۔ کانپتا ہوا ہاتھ صرف ہاتھ نہیں ہوتا، وہ ایک داستان ہوتا ہے؛ ایک ایسا زخم جسے زبان بیان نہیں کر پاتی۔

آج کے پاکستان میں بھی ایک ایسا ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ بازار آباد ہیں، سڑکوں پر رش ہے، دکانوں کے شٹر کھلے ہیں، لوگ اپنے معمولات میں مصروف نظر آتے ہیں؛ لیکن اس ظاہری زندگی کے نیچے ایک خاموش اضطراب مسلسل حرکت کر رہا ہے۔ یہ اضطراب اس باپ کی پیشانی پر ہے جو بچوں کی فیس کا حساب لگا رہا ہے، اس ماں کی آنکھوں میں ہے جو راشن کی فہرست مختصر کر رہی ہے، اور اس نوجوان کے دل میں ہے جو خواب تو بڑے دیکھتا ہے مگر جیب کی حقیقت اسے بار بار زمین پر لے آتی ہے۔

ایسے ہی ایک پس منظر میں یہ جملہ سننے کو ملا کہ "آٹھ ہزار روپے رکھنے والا شخص غریب نہیں۔” بظاہر یہ ایک معاشی بیان تھا، مگر عوامی ردعمل نے واضح کر دیا کہ یہ محض ایک عدد کا مسئلہ نہیں۔ مسئلہ دراصل اس فاصلے کا ہے جو اعداد و شمار اور انسانی تجربے کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ معاشی اصطلاحات میں غربت کی تعریف کچھ بھی ہو، بازار کی زبان ہمیشہ مختلف ہوتی ہے، اور بازار کی زبان وہی سمجھتا ہے جو روزانہ قیمتیں پوچھتا ہے۔

یہاں سوال آٹھ ہزار روپے کا نہیں، بلکہ اس عدد کے معنی کا ہے۔ آخر ایک رقم کی حیثیت کیا ہوتی ہے؟ کیا نوٹ پر لکھی ہوئی قیمت اس کی اصل طاقت ہوتی ہے یا وہ چیزیں جو اس رقم سے خریدی جا سکتی ہیں؟ اگر ایک رقم کل تک ایک خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکتی تھی لیکن آج صرف چند دنوں کا خرچ اٹھا سکتی ہے، تو کیا ہم اب بھی اسی عدد کو اسی معنی میں استعمال کر سکتے ہیں؟

یہی وہ مقام ہے جہاں افراطِ زر صرف معاشی اصطلاح نہیں رہتا بلکہ ایک سماجی اور نفسیاتی حقیقت بن جاتا ہے۔ مہنگائی چیزوں کی قیمتیں ضرور بڑھاتی ہے، مگر اس کا سب سے گہرا اثر انسان کی امیدوں پر پڑتا ہے۔ وہ خواب جو کل ممکن لگتے تھے، آج مہنگے ہو جاتے ہیں۔ وہ ضروریات جو کبھی معمول کا حصہ تھیں، آہستہ آہستہ آسائش میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔

کارل مارکس نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسان اپنے مادی حالات سے الگ ہو کر نہیں سوچ سکتا۔ اگر زندگی گزارنے کی بنیادی شرائط مسلسل مشکل ہوتی جائیں تو معاشرے کی اجتماعی نفسیات بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ غربت پھر صرف آمدنی کی کمی نہیں رہتی بلکہ امکانات کی کمی بن جاتی ہے۔

یہی نکتہ بعد میں امرتیہ سین نے اپنے "صلاحیتوں کے نظریے” میں بیان کیا۔ ان کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ کسی شخص کے پاس کتنی رقم ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ رقم اسے کیا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ کیا وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکتا ہے؟ کیا بیماری کی صورت میں علاج کروا سکتا ہے؟ کیا وہ مستقبل کے بارے میں اعتماد کے ساتھ سوچ سکتا ہے؟

جب ہم آٹھ ہزار روپے کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم ایک عدد کی نہیں، ایک معیارِ زندگی کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ اور معیارِ زندگی کا فیصلہ سرکاری فائلوں سے کم اور روزمرہ زندگی کے تجربات سے زیادہ ہوتا ہے۔

فرانسیسی مفکر پیئر بوردیو نے اسے "علامتی طاقت” کا نام دیا۔ ان کے مطابق طاقتور طبقات صرف وسائل پر اختیار نہیں رکھتے بلکہ حقیقت کی تعریف کرنے کا اختیار بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ وہ طے کرتے ہیں کہ کامیابی کیا ہے، ترقی کیا ہے، اور غربت کسے کہا جائے گا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب عوامی تجربہ اور سرکاری تعریف ایک دوسرے سے بہت دور ہو جائیں تو اعداد و شمار اپنی قوتِ قائلہ کھو دیتے ہیں۔

چودھویں صدی کے عظیم مسلم مفکر ابن خلدون نے بھی کچھ ایسا ہی لکھا تھا۔ ان کے مطابق حکمران طبقہ جب عوام کی زندگیوں سے دور ہو جاتا ہے تو وہ معاشرے کو دیکھنا نہیں بلکہ صرف ناپنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی لمحے حقیقت اور ادراک کے درمیان ایک دراڑ پیدا ہوتی ہے، اور یہی دراڑ اکثر بڑی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بنتی ہے۔

شاید اسی لیے آج عوام آٹھ ہزار کے عدد پر بحث نہیں کر رہے۔ وہ اس احساس پر گفتگو کر رہے ہیں کہ ان کی زندگی کو کس حد تک سمجھا جا رہا ہے۔ کیونکہ ایک خاندان کے لیے آٹھ ہزار روپے صرف ایک رقم نہیں، بجلی کا بل ہیں، بچوں کی دوائیں ہیں، راشن کی چند تھیلیاں ہیں، یا مہینے کے آخری دنوں کی پریشانی ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں معیشت اخلاقیات سے ملتی ہے اور اعداد انسانی احساسات سے۔ یہاں سوال یہ نہیں رہتا کہ غربت کی لکیر کہاں کھینچی گئی ہے، بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ کیا معاشرہ اپنے کمزور طبقات کے تجربات کو سن اور سمجھ بھی رہا ہے یا نہیں۔

شاعر کے کانپتے ہوئے ہاتھوں اور آج کے مہنگائی زدہ شہری کے درمیان شاید صدیوں کا فاصلہ ہو، مگر دونوں کی کیفیت میں ایک عجیب مماثلت موجود ہے۔ دونوں کے پاس ایک ایسا دکھ ہے جسے اعداد میں نہیں ناپا جا سکتا۔ ایک کو یار نے ستایا تھا، دوسرے کو افراطِ زر نے۔ مگر دونوں کی خاموش لرزش ایک ہی حقیقت بیان کرتی ہے: انسان صرف اعداد نہیں ہوتا، وہ ایک مکمل تجربہ، ایک مکمل احساس اور ایک مکمل کہانی ہوتا ہے۔

اک سوچ …تحریر: سعدیہ مجید

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button